Posts

Showing posts from October, 2025

اسلامی فقہ کا اصول

 اسلامی فقہ میں یہ اصول لکھا ہوا ہے کہ عام راستوں پر چلنا اور کوئی سواری چلانا اس شرط کیساتھ جائز ہے کہ چلنے والا دوسروں کی سلامتی کی ضمانت دے ۔یعنی ہر ایسے کام سے بچے جو کسی دوسرے شخص کیلئے تکلیف یا خطرے کاباعث بن سکتا ہو۔  غور فرمائیے ! اگر ایک شخص سگنل توڑ کر گاڑی آگے لے گیا ، یا اس نے کسی ایسی جگہ سامنے والی گاڑی کو اور ٹیک کیا جہاں ایسا کرنا ممنوع تھا ۔ بظاہر تو یہ معمولی سی بے قاعدگی ہے لیکن درحقیقت اس معمولی سی حرکت میں چار بڑے گناہ جمع ہیں ۔ 1- قانون شکنی 2۔وعدہ خلافی 3۔کسی کو تکلیف پہنچانا 4۔سڑک کا ناجائز استعمال یہ گناہ ہم دن رات کسی تکلف کے بغیر اپنے دامن میں سمیٹ رہے ہیں اور ہمیں کبھی خیال بھی نہیں آتا کہ ہم سے کوئی گناہ سرزد ہو رہاہے ۔ بظاہر ڈرائیونگ ایک ایسا کام ہے جسکے بارہ میں عام مسلمان کے ذہن میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ اس کام کے متعلق اسلام ہمیں کیا ہدایات دیتاہے ؟ اس کے متعلق اصولی بات تویہ ہے کہ عام راستوں پر چلنا اور کوئی سواری چلانا دوسروں کی ضمانت کیساتھ جائز ہے کہ ہر ایسے کام سے بچا جائے جو کسی دوسرے شخص کیلئے تکلیف یا خطرہ کا سبب بن سکتا ہو۔ دوران ڈرائ...

اللہ کے نام

 ﻣﺤﻠﮯ ﮐﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﺗﺮﻣﯿﻢ ﻭ ﺗﺰﺋﯿﻦ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻣﻄﻠﻮﺑﮧ ﺭﻗﻢ ﺍﮐﭩﮭﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﯿﮧ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﯽ ﺍُﺱ ﻧﮑڑ ﻭﺍﻻ ﺑﻨﺪﮦ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﻮﭨﺎ ﺗﺎﺟﺮ, ﻣﮕﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺴﻖ ﻭ ﻓﺠﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺖ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ۔ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺣﺎﻣﯽ ﺑﮭﺮ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﭩﮑﮭﭩﺎﯾﺎ ۔ ﺗﺎﺟﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮﺋﮯ - ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺪﻋﺎ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ, ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﭙﯿﮑﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﮭﺎﮞ ﺑﮭﺎﮞ ﺳﮯ ﺗﻨﮓ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺍﺩﮬﺮ ﺗﮏ ﺁ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮨﻮ۔ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻠﮯ ﺩﺍﺭ ﻣﺮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭼﻨﺪﮦ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺁﻥ ﭘﮩﻨﭽﯽ؟؟ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ, ﺻﺎﺣﺐ, ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﻣﻮﻗﻊ ﮨﮯ ﺁﭖ ﮐﯿﻠﺌﮯ, ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﺳﺖِ ﺗﻌﺎﻭﻥ ﮐﯽ ﺍﺷﺪ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ, ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ, ﺍﻟﻠﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﺎﻝ ﻭ ﺟﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﮐﺖ ﺩﮮ ﮔﺎ, ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﻻﺅ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭼﻨﺪﮦ ﺩﻭﮞ۔ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﮍﮬﺎﯾﺎ ﺍﺱ ﺗﺎﺟﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺮ ﺗﮭﻮﮎ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﯾﮧ ﺗﮭﻮﮎ ﻭﺍﻻ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﻞ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﺗﺎﺟﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﮯ...

سمجھ دار بیوی

 ﺍﯾﮏ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻣﺼﻨﻒ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻄﺎﻟﻌﮯ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮﻣﯿﮟ ﻗﻠﻢ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ : ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ، ﻣﯿﺮﺍ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﺘﺎ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺑﮍﮬﺎﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺌﯽ ﮨﻔﺘﮯ ﺗﮏ ﺑﺴﺘﺮ ﮐﺎ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮨﻨﺎ ﭘﮍﺍ ۔ ﺍﺳﯽ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﺳﺎﭨﮫ ﺳﺎﻝ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻢ ﺗﺮﯾﻦ ﻣﻼﺯﻣﺖ ﺳﮯ ﺳﺒﮑﺪﻭﺵ ﮨﻮﻧﺎ ﭘﺮﺍ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﺸﺮﻭ ﺍﺷﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺗﯿﺲ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺳﺎﻝ ﮔﺰﺍﺭﮮ ﺗﮭﮯ ۔ ﺍﺳﯽ ﺳﺎﻝ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﺎ ﺻﺪﻣﮧ ﺍﭨﮭﺎﻧﺎ ﭘﮍﺍ ۔ ﺍﺳﯽ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﯿﮉﯾﮑﻞ ﮐﮯ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻓﯿﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﻭﺟﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﺎﺭ ﮐﺎ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍُﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﻣﺎﮦ ﺗﮏ ﭘﻠﺴﺘﺮ ﮐﺮﺍ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ ﭘﮍﺍ، ﮐﺎﺭ ﮐﺎ ﺗﺒﺎﮦ ﮨﻮﺟﺎﻧﺎ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﺳﮯ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﺗﮭﺎ۔ ﺻﻔﺤﮯ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ : ﺁﮦ، ﮐﯿﺎ ﮨﯽ ﺑﺮﺍ ﺳﺎﻝ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ !!! ﻣﺼﻨﻒ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﻏﻤﺰﺩﮦ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺧﻼﺅﮞ ﮐﻮ ﮔُﮭﻮﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﭘﺸﺖ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﯽ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﻟﮑﮭﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ۔ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﻮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ ۔ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﺍﭘﺲ ﺍﺳﯽ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭨﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻏﺬ...

ادھورا سروے

 ایک عورت سڑک پر ایک آدمی کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے "معاف کیجئے جناب، میں ایک چھوٹا سا سروے کر رہی ہوں، کیا میں آپ سے کچھ سوال کر سکتی ہوں؟"  آدمی کہتا ہے۔ "جی بالکل."  عورت: "فرض کریں کہ آپ بس میں بیٹھے ہیں اور ایک خاتون بس میں سوار ہوئی اور اس کے پاس سیٹ دستیاب نہیں ہے، کیا آپ اس کے لیے اپنی سیٹ چھوڑ دیں گے؟"  آدمی - "نہیں۔" اس عورت نے اپنے پاس موجود پیپر پر نظر دوڑاتے ہوئے بے آدب کے خانہ پر ٹک کرتے ہوئے دوسرا سوال کیا   عورت: "اگر بس میں سوار خاتون حاملہ ہو تو کیا آپ اپنی سیٹ چھوڑ دیتے؟  آدمی: "نہیں۔" اب کی بار خودغرض پر ٹک کرتے ہوئے اگلا سوال کیا   عورت: "اور اگر وہ خاتون جو بس میں سوار ہوئی وہ ایک بزرگ خاتون ہوں تو کیا آپ اسے اپنی سیٹ دیں گے؟"  آدمی: "نہیں۔"  عورت: (غصے سے) "تم ایک نہایت خود غرض اور بے حس آدمی ہو جس کو خواتین کا ، بڑے اور ضعیف افراد کے آداب نہیں سکھائے گئے ،  کہتے ہوئے عورت آگے چلی گئی  پاس کھڑے دوسرا آدمی جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ اس پہلے بندے سے پوچھتا ہے کہ اس عورت نے اتنی باتیں...

حسن ظن

ایک معلمہ کہتی ہیں کہ میں نے طالبات کی ایک ٹیم کو سال کے آخر میں اپنی ماؤں کے سامنے نظم پیش کرنے کیلئے تیار کیا  تیاری اور ریہرسل کے مختلف مراحل کے بعد ب الآخر پروگرام کا دن آ گیا مگر انکی اس خوبصورت کارکردگی پر اسوقت پانی پھر گیا جب ایک بچی جو اپنی سہیلیوں کے ساتھ نظم پڑھ رہی تھی اچانک اپنے ہاتھ، جسم اور انگلیوں کو حرکت دینے لگی اور اپنا منہ کسی کارٹون کے کیریکٹر کیطرح بنانے لگی.  اسکی ان عجیب وغریب حرکتوں کیوجہ سے دوسری تمام بچیاں پریشان ہو گئیں  معلمہ کہتی ہیں :  میرا جی چاہا کہ میں جاکر اس بچی کو ڈانٹ پلاؤں اور اسے تنبیہ کروں کہ وہ ڈسپلن اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے مجھے اس پر اتنا غصہ آیا کہ قریب تھا کہ میں اسے سختی کے ساتھ ان بچیوں سے کھینچ کر الگ کر دوں لیکن جوں جوں میں اس کے قریب جاتی وہ پارے کیطرح چھٹک کر مجھ سے دور ہو جاتی   اسکی یہ حرکتیں بڑھتی گئیں اور وہ سارے لوگوں کی نظر کا مرکز بن گئی   وہاں موجود تمام خواتین اسکی ان حرکتوں پر زور زور سے ہنس رہی تھیں  میری نظر پرنسپل پر پڑی جنکی پیشانی مارے شرمندگی کے پسینے سے شرابور تھی وہ اپن...