اسلامی فقہ کا اصول
اسلامی فقہ میں یہ اصول لکھا ہوا ہے کہ عام راستوں پر چلنا اور کوئی سواری چلانا اس شرط کیساتھ جائز ہے کہ چلنے والا دوسروں کی سلامتی کی ضمانت دے ۔یعنی ہر ایسے کام سے بچے جو کسی دوسرے شخص کیلئے تکلیف یا خطرے کاباعث بن سکتا ہو۔ غور فرمائیے ! اگر ایک شخص سگنل توڑ کر گاڑی آگے لے گیا ، یا اس نے کسی ایسی جگہ سامنے والی گاڑی کو اور ٹیک کیا جہاں ایسا کرنا ممنوع تھا ۔ بظاہر تو یہ معمولی سی بے قاعدگی ہے لیکن درحقیقت اس معمولی سی حرکت میں چار بڑے گناہ جمع ہیں ۔ 1- قانون شکنی 2۔وعدہ خلافی 3۔کسی کو تکلیف پہنچانا 4۔سڑک کا ناجائز استعمال یہ گناہ ہم دن رات کسی تکلف کے بغیر اپنے دامن میں سمیٹ رہے ہیں اور ہمیں کبھی خیال بھی نہیں آتا کہ ہم سے کوئی گناہ سرزد ہو رہاہے ۔ بظاہر ڈرائیونگ ایک ایسا کام ہے جسکے بارہ میں عام مسلمان کے ذہن میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ اس کام کے متعلق اسلام ہمیں کیا ہدایات دیتاہے ؟ اس کے متعلق اصولی بات تویہ ہے کہ عام راستوں پر چلنا اور کوئی سواری چلانا دوسروں کی ضمانت کیساتھ جائز ہے کہ ہر ایسے کام سے بچا جائے جو کسی دوسرے شخص کیلئے تکلیف یا خطرہ کا سبب بن سکتا ہو۔ دوران ڈرائ...